افسوس ناک حقائق

شہزادہ ولیم خدانخواستہ اگر کسی پاکستانی سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے تو یقینا کسی کرپٹ سیاستدان کی آوارہ اور فضول خرچ اولاد ہوتے۔مگر وہ شاہی گھرانے سے تعلق اور عرب پتی ہونے کے باوجودوہ اپنے ملک کی فوج کے پائیلٹ بنے۔شہزادہ ولیم کی شادی کے قبل میڈیا میں یہ خبر پھیل گئی کہ اُنہیں اپنے بالوں پر توجہ دیتے ہوئے بال نئے لگوانے پڑیں گے۔اب شہزادہ ولیم کا تعلق پاکستان کی کرپٹ ترین سیاسی پارٹی ’’مسلم لیگ نواز‘‘ سے تو ہے نہیں جو وہ نئے بال لگوانے پر ٹائم اور پیسہ ضائع کرتے۔جو قدرت نے اُنہیں دیا اُسے خوشی سے قبول کر لیا۔پیسے کا فضول استعمال اور کرپشن کا نہ ہونا، یہی تو وہ بات تھی جس کی وجہ سے دُنیا بھر کے عربوں لوگوں نے اُن کی شادی کو دیکھنے کی خاطر خصوصی وقت نکالا اور اُنہیں دُعائیں دیتے رہے۔اگر شہزادہ ولیم بھی کرپٹ ہوتے اور کسی سنگین کیس یا اسکینڈل میں ملوث ہوتے تو دُنیا بھر کے لوگوں کے منہ سے اُن کے لئے دُعائیں نہ نکلتیں۔یہی اگر کسی پاکستانی سیاستدان کے بیٹے کی شادی ہوتی تواُس شادی میں تمام اہم سیاسی شخصیات اور حکومتی عہدیداروں کی گاڑیاں بمعہ پروٹوکول کم از کم تین چار ہزار ہوتیں یقیناً ہر وزیرکے ساتھ اُس کی آٹھ سے دس گاڑیوں کا پروٹوکول ہوتا۔حیرت کی بات تھی کہ وہ شاہی خاندان جو کسی وقت پوری دُنیا پر حکومت کرتا تھا اور آج کھربوں پتی ہونے کے باوجود اُن کے اہل خانہ دو سے تین گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔اگر ہمارے موجودہ سیاستدانوں میں سے کسی کے آبائو اجداد نے کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہوتا تو نجانے یہ لوگ کیا کُچھ کر دیتے۔ہمارے وزرا ئ کی اولادیں پیسے کی تباہی کا نئے سے نیا طریق ایجاد کرنے پر غور کررہی ہیں اور وہ شاہی خاندان کا چشم و چراغ ہونے کے باوجوداپنے ملک کی خدمت کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ہمارے حکمرانوں کی اولادیں عرب پتی گھرانوں میں شادی کرنا پسند کرتی ہیں اور دُنیا بھر کی مشہور شخصیت کے بیٹے نے اپنی زندگی گزارنے کے لئے ایک عام سے لڑکی کا انتخاب کیا۔اصل میں ہمارے حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے کبھی مرنا نہیں اور اُن کی جمع کی ہوئی دولت کبھی ختم نہیں ہونی اور وہ دُنیا بھر کے دلوںپر حکومت کرنے والے یہ سوچتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن تو مر جانا ہے اور دولت کا کیا ہے کبھی نہ کبھی تو ختم ہو ہی جائے گی لہٰذا وہ لوگ زندگی کو زندہ دلی سے گزارنہ چاہتے ہیں ۔ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اولادیں باپ کی لوٹ مار کی جمع کی ہوئی رقم پر زندگی بسرکرنے کو اہمیت دیتے ہیں اور کوئی کام کرنا پسند نہیں کرتے۔یہاں تک کہ اگر عام عوام کی طرف نظر دوڑائی جائے توجن گھرانوں کا کوئی ایک فرد بیرون ملک دولت کمانے گیا ہو اُن کے اہل و عیال اور بھائیوں کا یہ حال ہے کہ وہ بھی کام کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر پوچھا جائے کہ کیا کرتے ہو تو جواباً کہتے ہیں کہ بڑا بھائی باہر ہوتا ہے۔ان کم عقلوں کو یہ کون سمجھائے کہ بیرون ملک کمائی کرنا شدید مشکل اور محنت طلب کام ہے۔بیرونِ ملک بسنے والوں سے پوچھیں کہ کمپیوٹرائز زندگی گزار کر وہ کس قدر تنگ آچکے ہیں۔مگر اپنے اہل وعیال کیلئے روپیہ کمانا اُن کی مجبوری بن چکا ہے۔پاکستانی قوم جب تک اپنی انا اور دولت کے گھمنڈ کو ختم نہیں کرے گی تب تک نہ تو یہ قوم ترقی کر سکے گی اور نہ ہی اس قوم کی کوئی سُننے والا ہوگا۔رہی بات حکمرانوں کی تو کرپٹ حکمرانوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور وہ روپے پیسے کے عوض عوام سے ووٹ خریدتے رہیں گے اور عوام کو جتنا بھی سمجھا لیا جائے وہ ووٹ بیچنے سے باز نہیں آئیں گے۔