ملکی سرمایہ رشوت خوروں کی نظر

کسی ملک میں ریلوے کا نظام اُس ملک کا سرمایہ اور ترقی کا راز ہوتا ہے۔جب کسی ملک میں ریلوے کا نظام ہو اور حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی نا اہلی کی وجہ سے وہ نظام تباہ و برباد ہوجائے تو یقینا ہر محب وطن کو انتہائی دُکھ ہوگا۔ہمارے ملک میں ریلوے نظام صرف اُن رشوت خوروں کی نظر ہوگیا ہے جو ریلوے سے متعلقہ ہر شعبہ میں بھوکے گیدڑ کی طرح بے بس شکار کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔مسافروں سے پیسے بٹورنا یا اُنہیں دائو لگانا ریلوے کے ملازمین سے بہتر شاید کوئی نہ جانتا ہو۔پھر صرف یہی نہیں کہ رشوت کا جال محدود ہے بلکہ نیچے سے لیکر اوپر تک تمام ملازمین رشوت کے بغیر بات نہیں کرتے۔اعلیٰ عہدیداران ایسے فیصلے کرتے ہیں جس سے ملک وقوم کو نقصان ہو۔جیسا کہ ریل کے نئے انجنوں کی خریداری اب نا مناسب وقت پر انتہائی احمقانہ فیصلہ ہے۔جبکہ ریلوے کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ملازمین مفت کی تنخواہیں کھا رہے ہیں مسافر ریلوے سے تنگ آکر بسوں پر دھکے کھانے کیلئے مجبور ہیں،اس کے علاوہ کئی قسم کی قباحتوں کے باوجود نئے انجنوں کی خرید کا فیصلہ کہاں کی ذہانت ہے؟صرف یہی وہ موقع نہیں جب ریلوے کے لئے غلط فیصلہ لیا گیا بلکہ اس سے پہلے بھی کئی موقع آئے جب ریلوے کے حق میں گھاٹے کے سودے کئے گئے۔ہم بھارت کے مقابلے میں نیوکلیائی ہتھیاروں اور ایف سولہ تیاروں کا مقابلہ تو کرتے ہیں ،مگرریلوے کے معاملہ میں ہمارے اندر کا پاکستانی کہاں جاتا ہے؟اگر عوام ہی نہ رہی تو ملک کو سر میں ماریں گے حکمران؟عوام کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں،بے روزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے،انصاف مل نہیں رہا،پولیس خود چوری ڈاکے مارنے پر اُتر آئی ہے،غریب کو دو وقت کی روٹی نہیں نصیب،حکمران بے پرواہ پرندوں کی طرح جہازوں میں اڑتے پھرتے ہیں،حکمرانوں کے نوکر چاکر ایسے ہیں جیسے یہ ملک اُن کے باپ کی جاگیر ہو،ملکی سرمایہ بغیر سوچے سمجھے بیچا جا رہا ہے،ہر محکمے کو دھیرے دھیرے کمزور کیا جارہا ہے،کوئی ایک بھی سیاستدان ملک کا وفادار نہیں اور عوام جاہلیت کے کنویں میں گرتی چلی جا رہی ہے۔تمام سیاسی پارٹیاں اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میںمصروف ہیں۔ریلوے کا منسٹر جب بھی تبدیل ہوتا ہے تو نیا آنے والا یہی کہتا ہے ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے،خود وہ کیا کرنے آئے ہوتے ہیں؟بنیادی خرابیاں اُن کے اپنوں سے شروع ہوتی ہیں۔ریلوے کے نئے وزیر غلام بلور کہتے ہیںکہ چار سو انجن مل جائیں تو ریلوے کا نظام درست کر دیں گے۔مگر کیسے؟چار سو انجن اگر مل بھی گئے تو ان کا دور ختم ہونے تک وہ سب کھائے پیئے جائیں گے اور نیا آنے والا وزیر پھر کوئی نیا مطالبہ کرے گا اور موجودہ خرابیوں کو سابقہ حکومت پر ڈال دے گا۔ہمارے ملک میں موجود رسالپور فیکٹری جو کہ سنگل شفٹ میں48انجن فی سال تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے گزشتہ 16سالوں میں 97انجن اسمبل کر سکی ہے۔ہمارے نظام کی سب سے بڑی کمزوری کسی چیز کو مانگ کر یا خرید کا استعمال کرنا ہے۔امداد مانگی تو جاتی ہے مگر کہاں جاتی ہے کُچھ پتہ نہیں،گندم،چینی،پیاز،ٹماٹر وغیرہ سب بیرون سے منگوایا جاتا ہے۔کیونکہ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ کسان بیچ بونے سے ڈرتا ہے اور حکومت باہر سے منگوانے میں زیادہ خوش ہے کیونکہ اس میں اُنکا بھی کچھ حصہ نکل آتا ہے۔ایک چیز کی سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے اعلیٰ عہدیداران اقتدار سنبھالتے وقت جو عہد دیتے ہیں اُس کے بعد اُن کے دلوں میں رتی بھی خدا کو خوف کیوں نہیں رہتا؟ہمارے حکمران لوٹ مار ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔چور تو صرف چوری کرتا ہے مگر یہ تو چوری کے ساتھ سینہ زوری بھی کرتے ہیں۔ریلوے کے محکمہ کو درست کرنے کے لئے ریلوے کے ملازمین پر خاص نظر رکھنا ہوگی،جو ریلوے کی پراپرٹی خواہ وہ کسی بھی رنگ میں ہو،کو بیچ کرکھانے میں مصروف ہیں۔