سیلاب متاثرین اور غیر سرکاری تنظیمیں

پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کے نتیجے میںتباہی اور بربادی اتنی بڑی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور پوری قوم تنہائ اس مصیبت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔اس سلسلے میں پاکستان کو ہر طرف سے شدید مددکی ضرورت ہے۔یہ امر تکلیف دہ ہے کہ اس سیلاب میں پاکستان کے عوام اور اہل ثروت لوگ متاثرین کی اس اندازسے مددنہیں کررہے جیسے2005ئ کے زلزلہ میں کی گئی تھی۔اس کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ حکومتی اداروں کی خراب ساکھ اور کرپشن کی وجہ سے عام لوگ ان اداروں کوعطیات دینے سے کترارہے ہیں کیونکہ عوام کویقین نہیں کہ یہ رقوم متاثرین کو پہنچ پائیں گی بھی کہ نہیں۔تاہم مشہورشخصیات سے ہٹ کر عام پاکستانی اپنے طور پر متاثرین کی مدد کررہے ہیںمتاثرین کی مدد کرنے والوں میںطالبعلم،ڈاکٹر،عام افراد بطور رضاکاریعنی سبھی شامل ہیں۔بہت سے پاکستانی اپنے مصیبت کے شکارہم وطنوں کی اس طرح مددکررہے ہیں کہ انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرالیاگیاہے۔جیسے پنجاب کے ایک بڑے زمیندارمحمدابراہیم نے 200لوگوں کو اپنے گھر میںپناہ دے رکھی ہے۔حکومت متاثرین کی مدد کرنے میں ناکام ہورہی ہے،ان لوگوںکا سب کچھ بربادہوگیاہے،ان کے مکانات گرگئے ہیں،ان کے پاس سونے تک کے لئے چارپائیاں نہیں ہیں،حکام کو اس بات کا اہتمام کرناچاہئے کہ جب یہ لوگ گھروں کو جائیں تو ان کے سروں پر چھت ہومگر ہمارے حکمران بیرونی امداد تو ایسے مانگتے نظر آتے ہیں جیسے اُن کے اپنے سروں پر چھت نہیں ہے۔پاکستان کے دولت مند لوگوں کے لئے یہ بات شرمندگی کاباعث ہونی چاہیے کہ ان تمام سے زیادہ مالی امداد توہالی وڈکی اداکارہ ’’انجلینا جولی ‘‘نے دی ہے جو تقریباًایک لاکھ ڈالرہے۔پاکستان میں غیرملکی امدادبھی بہت آہستہ اورکم مقدار میں آرہی ہے۔سرکاری مشینری ویسے ہی انتہائی سست اور غیرفعال ہے۔لے دے کر پاکستان کی مسلح افواج جیسامنظم ادارہ ہی ہے جوسب سے زیادہ فعال ہے۔اس وقت تو سیلاب سے گھربار چھوڑنے والے لوگوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ رہائش،خوراک اور پینے کا صاف پانی ہے۔ تقریباًان2کروڑلوگوں کیلئے ایسی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے حکومت اگرتمام وسائل بھی لگا دے تو وہ ان سب کی مدد نہیں کرسکتی۔ان نامصائب حالات میں سیلاب متاثرین کی مدد کے حوالے سے ملکی اور غیرملکی غیرسرکاری تنظیموں کی سرگرمیاں بہت اہمیت کی حامل ہیںکیونکہ عام لوگ اکثراداروں پر اعتبارکرتے ہیں۔ان میں سے بعض بڑی رفاعی تنظیمیں توسارے پاکستان میںبہت فعال ہیں اور سرکاری اداروں سے زیادہ بہتر طور پر متاثرین کی مددکرسکتی ہیں۔اسی اہمیت کے پیش نظرہی کچھ دن قبل ایوان صدر میں غیرسرکاری تنظیموں کے 70 سے زائدنمائندوں کااجلاس ہوا۔اس اجلاس میں این جی اوزاور حکومت کے درمیان سیلاب متاثرین کی مدد کے حوالے سے لائحہ عمل بنانے اور مل کرکام کرنے کے لئے کہاگیا۔لیکن سب سے بڑاچیلنج اس وقت درپیش ہوگا جب سیلاب کاپانی نیچے اترے گااور لوگ اپنے گھروںکوواپس جائیں گے۔جس کے لئے ہنگامی امداد کے مقابلے میں پیسہ بھی زیادہ درکار ہوگا اور کوششیںاور صبر بھی۔اس وقت بہت سی تنظیمیں سیلاب متاثرین کی مدد کررہی ہیں ۔جن میںہیومنیٹی فرسٹ، ایدھی فاؤنڈیشن،الخدمت ٹرسٹ، پکار،جماعت الدعوہ،تحریک انصاف،پاکستان ہلال احمر،آئی این اے،ہینڈز،پلان انٹرنیشنل،کراچی ریلیف ٹرسٹ،سنگی،مہوش اینڈجہانگیرصدیقی فاؤنڈیشن،سندھ ترقی پسندپارٹی،نورسائٹ فاؤنڈیشن ،سہارا ٹرسٹ، عمراصغرخان ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن وغیرہ قابل ذکر ہیں تاہم ان کے علاوہ بھی بہت سے رفاعی ادارے اپنا کام کررہے ہیں۔زیادہ تر لوگ ان رفاعی اداروں کو امداددے رہے ہیں۔اس کے علاوہ کئی نجی ٹی وی چینل متاثرین کی مدد کے حوالے سے لائیوپروگرام کررہے ہیں جو کافی موثرہیں۔کئی بین الاقوامی این جی اوزبھی ریلیف کا کام کررہی ہیں جبکہ سمندر پار پاکستانی بھی سیلاب متاثرین کی مدد کے حوالے سے امداداکھٹی کررہے ہیں۔مثال کے طورپربرطانیہ میں موجودایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورنے اپنے طور پرہی سیلاب متاثرین کے لئے 10لاکھ روپے اکٹھے کئے ہیں جو ایک قابل ستائش بات ہے۔دوسری طرف کچھ دن قبل ایک خبرمیڈیا کے ذریعہ سُننے میں آئی کہ طالبان نے غیرملکی امدادی ایجنسیوں کوحملوں کی دھمکیاں دی ہیں۔اس طرح کی خبریں سیلاب کی زدمیں آئے لوگوں کے لئے مزیدپریشانی کاباعث ہیں کیونکہ ایسی دھمکیاں امدادی کاموں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان غیرملکی امدادی ایجنسیوںکی سیکورٹی پر خاص توجہ دے رہاہے۔ اس کے علاوہ بعض غیرسرکاری اداروںکے حوالے سے ایک مسئلہ یہ بن بھی رہا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک ان پرالزام لگاتے ہیں کہ یہ تنظیمیں اسلامی انتہائ پسندی میں ملوث ہیں۔امریکہ کو ڈر ہے کہ یہ تنظیمیں امدادکے بہانے سے سیلاب زدہ علاقوں میںشدت پسندی اور دہشت گردی کے فروغ کاباعث بن سکتی ہیں۔پاکستانی حکومت کو ان مغربی ممالک کو یقین دلاناچاہئے کہ ایسا نہیں ہوگا۔کیونکہ بزدل طالبان ڈرانے اور دھمکانے کے علاوہ ایسے موقع پر کُچھ نہیں کر سکتے۔سیلاب متاثرین کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی مددکون کررہاہے خواہ وہ شدت پسند ہو یا غیرملکی ہو۔یہ اطلاعات ضرورہیںکہ سوات کے علاقے میں طالبان اس تباہی کواپنے مقاصدکے لئے استعمال کررہے ہیں۔وہ سادہ لوح لوگوں میں یہ پروپیگنڈاکررہے ہیں کہ چونکہ لوگوں نے طالبان کے خلاف آپریشن میں حکومت کاساتھ دیا ہے اس لئے یہ خداکی طرف سے ان پر عذاب ہے۔حکومتی اداروں کو اس پروپیگنڈے کا سدباب کرنا چاہیے۔لوگوں کو اس بات پر قائل کرناچاہیے کہ ایسی بات ہر گز نہیں ہے۔ورنہ مستقبل میں پاکستان کسی نئی مصیبت میں پھنس جائے گا۔