مادہ پرست مُشرکین

مادہ پرست لوگوں نے علمِ دین اور مذہب کو کاروبار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔علم اور عمل بھی دھندا بن چکا ہے۔جعلی نجومیوں، عاملوں اور پیروںکا رواج چل پڑا ہے۔جِسے گھر یا محلہ میں کوئی سلام نہ لیتا ہو وہ دوسرے شہرجاکر عامل یا پیر بن جاتا ہے اور عزت سے جانا پہچانا جاتا ہے مگر اُسے جوتے تب پڑتے ہیں جب اُس کے علم کا پردہ اُٹھتا ہے۔غیر اخلاقی اشتہار بازی کرکے عوام کو علاج اور جِن نکالنے کا جھانسہ دینے والوں کی موجیں لگی ہوئی ہیںاور ہماری کم پڑھی لکھی عوام بھیڑ چال پر عمل کرتے ہوئے ان عاملوں اور پیروں کے ہاتھ چڑھ جاتی ہے۔جعلی عاملوں اور پیروں کے پاس زیادہ تر خواتین ہی جاتی ہیں جو جن ،بھوت نکلوانے،شوہر کو قبضے میں کرنے،ساس ہے تو بہو اور بہو ہو تو ساس کو قبضے میں کرنے جیسے فراڈ کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاںاپنے مستقبل کے بارہ میں جاننے کیلئے سڑکوں کے فُٹ پاتھ پر بیٹھے جھوٹے نجومیوں کو ہاتھ دکھاتے ہیںاور نجومی اُنہیں سُنہرے خواب دیکھا کر پیسے بٹورتے ہیں کمال ہے۔ جو اپنے مستقبل کے بارہ میں نہیں جانتے کہ نجانے کب اللہ رب العزت جان نکال لے وہ لوگ پڑھے لکھے جاہلوں کو مستقبل کا حال بتاتے پھرتے ہیں یعنی نعوزباللہ زمین پر خدا بننے کی کوشش کر تے ہیں۔ہر کوئی نجومی خود کوبڑا عامل اور عمل فلکیات کے علاوہ کئی علوم کی مکمل جانچ رکھنے والا بتاتا ہے جو کہ شاید مڈل پاس بھی نہیں ہوتے۔حیرت تو عوام پر ہے جو آج بھی جن نکالوانے کے چکر میں اپنی جوان اولادکو پیروں کے حوالے کر دیتے ہیں جن کی جان کی خبر اگلے دن اخبار میں ہی آتی ہے۔عوام شاید یہ نہیں جانتی کہ سب سے بڑے جن اور مشرک تو یہ خود ہیں جو عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور شرک کی طرف لیجارہے ہیں۔مسلمان ہونے کے باوجود عوام خود کو جعلی عامل،نجومی اور پیروں کے حوالے ایسے کرتے ہیں جیسے وہ عوام کا رزق چلاتے ہوں۔کاروبار میں ناکامی،گھریلو جھگڑے،سا بہو کا جھگڑا،میاں بیوی میں ناچاقی،سنگدل محبوب،محبوب کا روٹھنا،من پسند کی شادی،غیر ممالک کی نیشنیلٹی،غیر ملک سفر میں ناکامی،اولاد کا نہ ہونا یا ہو کر مر جانا،ہر قسم کا انعامی بانڈاور ہر قسم کی لاٹری کانمبر اور ہر قسم کے مسائل کا حل اور اس کے علاوہ عزت ،دولت،شہرت،محبت،حکمرانی اور کامرانی اگر انہیں کے ہاتھ میں ہوتی تو یہ خود دنیا کہ مالک ہوتے اور ان کی اولایں مُلکوں کی حکمران ہوتیں ان کے شاگرد کئی کئی شہروں پر راج کرتے ،ان کے خاندان رئیس ہوتے،ہر ملک پر ان کا ہی حکم چلتا۔مگر اَن پڑھ عوام کے علاوہ سب جانتے ہیں کہ یہ صرف ڈرامہ ہے۔کیونکہ جو دُعا انسان خود اپنے لئے کر سکتا ہے وہ کوئی دوسرا اُس کیلئے نہیں کر سکتااور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان کو دُعائوں کے بدلے ہی سب کُچھ ملتا ہے۔مگر افسوس اس بات پر کہ بہت سے لوگ بے صبری اور ناشکری دکھاتے اور جلد گھبرا جاتے ہیں اور یوں دُعائیں کرنا چھوڑ کرمایوسی اور نادانی کے راستہ پر لوٹ جاتے ہیں۔عوام کی ایک بڑی تعداد اصل حاجت روا اور مالکِ حقیقی کو چھوڑ کر خود ساختہ خدائوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔عوام کو چاہئے کہ ان شعبدہ بازوں،جادوگروں،ڈبہ پیروں،ڈرامے باز عاملوں اور جھوٹے نجومیوں کے پیچھے جانے اور موٹی موٹی فیسیں ادا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضورجھکیں اور اس سے مانگیں،بھلا عاجز انسان کسی کو کیا دے سکتا ہے؟ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان خود اللہ تعالیٰ کے در پر حاضری دے اور اس سے مانگے جو ایسے خزانوں کا مالک ہے جن میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی اور جہاں ہمیں کوئی فیس ادا نہیں کرنی پڑتی۔مخلوق کا حق دبانے والا ظالم ہے اور ظالم کی دُعا قبول نہیں ہوتی اورایسے لوگ جود دولت اور دنیا کے بھوکے ہوں اُن کااللہ تعالیٰ سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟جب انسان اخلاص ،توحید ، محبت ،صدق اور صفا کے قدم سے دُعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اُس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے۔