آپکو پتہ ہے؟

ہمارے ملک میں عوام پر ظلم ڈھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہماری اپنی ہی عوام کے منتخب کردہ سیاستدان اور حکمران ہیں۔سیاست چمکانے کی خاطر ملک کو تباہ کرنے والے کوئی اور نہیںہمارے اپنے.قوم کو بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے اور کوئی نہیں ہمارے اپنے.قوم پر مہنگائی کے پہاڑ گرانے والے کوئی اور نہیں ہمارے اپنے.عوام سے خودمختاری چھیننے والے کوئی اور نہیں ہمارے اپنے.عوام کو توڑ پھوڑ پر اُکسانے والے بھی نہیں ہمارے اپنے ہی حکمران اور سیاستدان ہیں جو اپنی ترقی کی خاطر کم تعلیم یافتہ عوام کے گروح بنا کر من مانی کرواتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے حکمران میں وہ وہ خوبیاں ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوں میں نہیں ملتی،کیونکہ ان خصوصیات سے ترقی پزیر ممالک کی عوام اور حکمران دور رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔پاکستان بننے کے بعد ہم کیا تھے اور آج ہم کیا ہیں؟اُس وقت ہماری عوام کو پریشانیاں تو تھیں مگر اپنے ملک میں آزادی کا سانس لینے پر دِلی سکون تھا۔آج ہم آزاد تو ہیں مگر بیرونی امداد کے رحم وکرم پراور اپنی جانوں کو ہاتھ پر رکھے ہوئے کہ کہیں کسی خود کش دھماکہ کی نظر نہ ہوجائیں۔ہمارے پاس سب کُچھ تو ہے مگر کُچھ کُچھ کمی کے ساتھ جیسے ہمارے پاس تجربہ کار حکمران تو ہیں مگر وہ خود داری اور انا سے زندہ رہنے کی بجائے امداد پر بھروسہ کرتے ہیں،ہمارے پاس کھیت تو بہت ہیں مگر گندم نہیں ہے،ہمارے پاس دریا تو ہیں مگر اُن میں پانی نہیں ہے،بارش بھی ہوتی ہے مگر ڈیم نہیں ہیں،واپڈا ہے بجلی نہیںہے،پولیس بھی ہے مگر سیکیورٹی نہیں ہے،منصوبے ہیں بجٹ نہیں ہے،ہسپتال ہیںدوائیں نہیں ہیں،صوبے ہیںمگر اُن میں اتفاق نہیں ہے،قانون تو ہے مگر عمل کرنے والا کوئی نہیں ہے،عدالتیں ہیںعدل نہیں ہے،سکول تو ہیں مگر اعلیٰ نظام تعلیم نہیں ہے،بنیادی ضروریات کی چند اشیائ تو ہیں مگر اُنہیں خریدنے کی بساط نہیں ہے،راہ تو ہے رہبری کرنے والا کوئی نہیں ہے ہمیں عام نہ سمجھا جائے کیونکہ ہمارے پاس بہت کُچھ ہے کُچھ کُچھ کمی کے ساتھ۔ہماری عوام خوشحالی کی لائن میں کھڑے ہونے کی بجائے بس سٹاپوں پر،چینی اورآٹا لینے کیلئے یوٹیلٹی سٹوروں پہ،بل جمع کروانے کیلئے بینکوں کے باہر قطاروں میں ،لوڈ شیڈنگ کیخلاف سڑکوں پر،خود کش حملوں کے بعد اپنے ہی پیاروں کی لاشیں اُٹھائے ہوئے یا پھر غیر ملکی ائیر پورٹوں پرذلت امیز لائنوںمیںکھڑے نظر آتی ہیں۔ہمارے پاس کسی کی کمی نہیں ہے ظالم،بے ایمان،الزام تراش،جھوٹے،چور،ڈاکو،قاتل،بدمعاش،شرابی،جواری،بدکاراور بڑے بڑے دعوے کرنے والے سب موجود ہیں۔ہم 63سال گزرنے کے بعد بھی اس یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہماری سیاست کیا ہے اور ثقافت کیاہے؟ہماری عوام جس کو جو کرتا دیکھتے ہیں وہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج تک مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری عوام ترقی نہیں کر سکی۔کس شعبہ میں ہم نے ترقی کی ہے؟فلمیںہیں تو وہ سالہاسال سے ایک ہی سٹوری پر بنتی چلی آرہی ہیں ہم گاناگانے والوں کو کنجر بھی کہتے ہیں اور پرائڈ آف پرفامنس بھی دیتے ہیں،ہمارے اداکاروں کاوقت فلموں کی مصروفیات سے زیادہ ادالتوں کے چکر کاٹنے پر لگ جاتا ہے،ہمارے قومی کھلاڑی جیتنے پر بھی ٹیم سے نکالے جاتے ہیں اور ہار کر خود استعفے پیش کر دیتے ہیں،قومی کھیل ہاکی ہونے کے باوجود ملک میں غنڈہ گردی ، موبائل اورپرس کھینچنے کا کھیل زیادہ مقبول ہے،ہمارے کسان ہیں تو وہ اچھی فصل ہونے پر بھی حکومت کو رو کر دیکھاتے ہیں اور بُری فصل ہونے پر تو پیٹ ننگا کر کے دیکھاتے ہیں،ہمارے پولیس اہلکار حکومت سے بھی تنخواہ لیتے ہیںاور عوام سے رشوت بھی لے کر کھاتے ہیں مگر پیٹ پھر بھی نہیں بھر پاتے،ہمارے حکومتی عہدیداروں کی اولادیں دولت سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ قانون سے کھیلنے کوشغل سمجھتی ہیں،ہماری ادالتوں میںانصاف فروخت ہوتا ہے،کرائے کے قاتل اور گواہ تو عام مل جاتے ہیں،مسلمان ہونے کے باوجود شراب کی بھٹیاںلگاکر شراب کا کاروبار کرتے ہیں ،ہمارے ہاںاکثر نوجوان ایسے ملیں گے جن سے سوال کیا جائے کہ کیا کرتے ہو؟تو جواب ملتا ہے بڑا بھائی باہر کے ملک ہوتا ہے۔اگر یہ پوچھا جائے کہ آپ یہاں کیا کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے میں نے بھی باہر جانا ہے وہاں جاکر ہی کام کروں گا۔اپنے ملک میں کام کرنے کو توہین سمجھتے ہیں جبکہ بیرون ممالک میں ہوٹلوں کے برتن دھونا،انگریزوں کی گاڑی دھونا یا کُتے نہلانے کواپنے ملک میں ملنے والی کسی جاب سے بہتر سمجھتے ہیں۔یا اللہ ہدایت دے ہمارے ملک کی عوام،حکمرانوں،وڈیروںکو اور ہر اُس شخص کو جو ہمارے ملک میں غیر قانونی حرکات میں ملوث ہے۔آمین