ختم شد.!

علامہ اقبال کا پاکستان کے بارہ میں سوچنا اور قائد اعظم کا اس سوچ و خیال کو پایہ تکمیل تک پہنچانا صحیح عمل تھا یا غلط اس کا فیصلہ تو ہمارے بس میں نہیں مگر موجودہ ملکی حالات سے یہ ضرور نظر آتا ہے کہ 1947میں جو ملک مسلمانو ں کے لئے بنایا اُس ملک میں دین اسلام کے قوانین نہ تو نافظ ہو سکے اور نہ ہی اُس ملک میں مسلمانوں کا مکمل ہولڈ ہوسکا اور خود مسلمان بھی متحد نہ ہوسکے۔قرآن پاک کی تعلیم سے ہٹ تو گئے ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ انسانیت سے گری ہوئی حرکات بھی کر رہے ہیں۔میں ہر گز یہ نہیں کہتا کہ تمام مسلمان ایسا ہی کر رہے ہیں مگر جو ایسا کر رہے ہیں وہ خود کو مسلمان ہی کہتے ہیں اور اسلام اور امن کے نام پر اپنے اندر کی وہشیت ظاہر کر رہے ہیں۔اپنی غلطی کوئی نہیں مانتا اور نہ ماننا چاہتا ہے اور جب تک غلطی مانی نہ جائے نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا،نقص دور نہیں ہوسکتا۔
ملک روز بروز تباہی کی طرف جا رہا ہے اور اگر غلطی نہ مانی گئی تو مزید تباہی کی طرف بڑھے گا۔ہم وہ مسلمان ہیں جو قرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کرکے تباہی کی طرف جارہے ہیںمگر یہودی اور عیسائی چند ایک قرآنی تعلیمات پر عمل کر کے روز بروز ترقی حاصل کر رہے ہیں۔مثلاً ایک اہم بات یہ کہ وہ لوگ اپنے ہی بنائے ہوئے قانون نہیں توڑتے اور ہم قانون توڑے بنا رہ نہیں سکتے ہمارے تو حکمران خود ہی قانون بنا کر خود ہی توڑ دتے ہیں تو عوام کیسے قانون کی حفاظت کرے۔دوسرے ممالک کی ترقی سے ہم لوگ جلتے تو ہیں مگر ترقی پزیر ممالک کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے اُنہیں بُرا بھلا کہہ کر ان سے تعلق ضرور خراب کر لیتے ہیں۔ہمارے ملک میں تو ایک عام پولیس کا اہلکار بھی اپنا عہدہ کیش کرواتا ہے یعنی اپنے اور اپنے پورے خاندان کے قانونی اور غیر قانونی کام اپنے عہدے کے نام پر کرواتا ہے مگر ان ممالک میں ایسا ہر گز نہیں ہے وہاں تو ملک کا صدر یا وزیر اعظم بھی ویسے ہی قانون پر عمل کرتا ہے جیسے ایک عام انسان.!
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیںروز بروز ہونے والے دھماکے،چوری،ڈکیتی،قتل وغارت ،بے گناہوں اور معصوموں کو دھوکہ دینے کے علاوہ خود کو مسلمان کہنے والے کیا کر رہے ہیں؟سچ پوچھیں تو اب کہانی ختم ہو چکی ۔دنیا پرستی کو دوڑ میں بڑھتے جانے والے مسلمانوںکو شاید یہ یاد نہیں کہ دین اسلام میں اعمال کی جزا سزا کا بھی دن مقرر ہے۔خواہ عیسائی اور یہودی اسے مانیں یا نا مانیں مگر مسلمان کیوں بھولتے جا رہے ہیں؟