پیپلز پارٹی کے کارنامے.!

اے عوام! تجھے روٹی کپڑا مکان تو مِلنا نہیں ،البتہ اس کے علاوہ جو کچھ تیرے پاس سے تو وہ بھی ہمیں دے دے.! حکومت پاکستان کی تارخ میں بہت سے بحران آئے جن کو کسی نا کسی طرح حل کر لیا گیا۔موجودہ حکومت کے دور میں جو بحران آئے بلکہ لائے گئے وہ اس قدر شدت اختیار کر چکے ہیں کہ عوام کے پاس جو کچھ ہے وہ بھی کھینچا جا رہا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ کبھی پاکستان میں اس حد تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی جو موجودہ حکومت کے دور میں ہو رہی ہے۔حکمرانوں نے کرسی سنبھالتے ہی ایسی چال چلی کہ عوام کوسمجھ ہی نہیں آئی۔ہوا کچھ یوں کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیاگیا۔عوام پریشان تو ہوئی مگر مجبوراً زیادہ شور نہ مچا سکی۔اب بجلی کی لوڈ شیڈگ ہو رہی ہے اور کئی علاقوں میں 16گھنٹے بھی بجلی کی بندش ہوتی ہے مگر بجلی کا بل اُتنا ہی آرہا ہے جتنا پہلے تھا۔یعنی جو6سے8گھنٹے بجلی کی فراہمی دی جا رہی ہے اُس کا بل تقریباً اتنا ہی بنتا ہے جتنا پہلے24گھنٹے بجلی چلانے کے بعد کا بل بنتا تھا۔غریب کے پیٹ پر ایسی لات ماری گئی ہے کہ جس کا مثال نہیں،جس کا جواب نہیں،جس کا علاج نہیں۔
بینظیر بھٹو کے خواب کو صدر آصف علی زرداری ایسے پورا کر رہے ہیں کہ روٹی ،کپڑا،مکان تو عوام کو دے نہیں پا رہے،لہٰذا عوام کے پاس جو کچھ بچا ہے وہ کھینچ ضرور رہے ہیں۔بھائی میرے!ظاہر ہے کہ جب 16گھنٹے بجلی بند رہے گی تو عوام کمائے گی کیا اور کھائے گی کیا؟ جو جمع پونجی بچا رکھی ہے وہ ہی حکومت کے حوالے کر رہی ہے۔لوگ بیچارے اُدھار مانگ مانگ کر حکومت کے بل اور ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ایک طرف ملک کا ایک حصہ تو بیچ دیا گیا ہے جو شمالی وزیراستان کہلاتا ہے جہاں روز امریکی مزائل حملے ہو رہے ہیں اور حکمرانوں کے بیانات ہیں کہ اب ہم امریکہ کو حملہ نہیں کرنے دیں گے۔اُدھر امیرکہ ایسے حملے کر رہا ہے جیسے آندھی میں شاپر اُڑ کر آتے ہیں۔
ہمسایہ ملک کو بھی شہہ ہوئی کہ اگر امریکہ حملے کر رہا ہے اور پاکستانی حکمران صرف بیانات دے رہے ہیں یعنی کوئی کاروائی نہیں کر رہے تو ہمیں بھی ایک ٹرائی کرنی چاہئے،مگر ہمسایہ ملک کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔کیا ہمارے حکمران پاکستان کے لئے قرضے لے کر پاکستان کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ چکے ہیں؟یا ہمارے غیرت مند حکمران بک چکے ہیں؟جیسے ہمسایہ ملک کو پاک فضائیہ نے بھگا دیا ویسے امریکہ کوجواب کیوں نہیں دیا جا رہا؟ملک کے صدر آصف علی زرداری جب بھی ٹی وی پر آتے ہیں مسکرا کر بات کرتے ہیں اور بہت اچھی لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر دکھاتے ہیں۔مگر عمل کی طرف توجہ کرنے کی غلطی کرنا پسند نہیںفرماتے۔ ہمارے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیانات دینے کے انداز سے لگتا ہے کہ جیسے اُن کے بیانات میں سے کوئی ایک بھی بات اُن کی ذاتی نہیں ۔ہمارے ملک کا کیا بنے گا؟یہ سارا قصور کِس کا ہے؟ یہ سارا قصور پاکستانی عوام کا ہے پاکستانی عوام نے ہی پیپلز پارٹی کو منتخب کیا تھا اگر بینظیر کے لئے پیپلز پارٹی کو ووٹ دئیے گئے تو عوام جانتی تھی کہ الیکشن سے پہلے محترمہ بی بی صاحبہ شہید ہو گئیںتھیں۔اس کے بعد پیپلز پارٹی زرداری کے ہاتھ میں تھی تو عوامکو چاہئے تھا کہPPPکو بر سرے اقتدار لائیں؟
پیپلز پارٹی نے تاریخ میں پاکستان کو جتنا فائدہ یا نقصان پہنچایا یہ سب جانتے ہیں اس کے باوجود عوام کا وہ گروح جو لالچی ،بے حس،بے عقل ہے جس نے چند رپوں کی خاطر پیپلز پارٹی کے نعرے بلند کئے اور ایک وہ ظالم گروح جو ناروں کے شور کی گونج کو پسند کرکے پارٹی کا فیصلہ کرتا ہے اور پارٹی میں شریک ہوجاتا ہے۔یعنی بھیڑ چال چلنے والا گروح۔پاکستان کو ظلم کے دھانے تک لے جانے والے سب سے بڑی پارٹی عوام خود ہے۔اپنا حق نہ لینا بھی ایک بڑا گناہ ہے اور یہ گناہ عوام روز بروز کرتی چلی جا رہی ہے۔ایک وقت تھا جب ہماری قوم سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتی تھی اور ہر شخصی حیثیت کو سمجھتی تھی مگر اب ہر کوئی صرف پیسے کی حیثیت کو سمجھتا ہے پہلے ہمارے ملک کے قومی بچے ہیروز کو پسند کرتے تھے کوئی محمد بن قاسم کو پسند کرتا تھا اور کوئی صلاح الدین ایوبی کو پسند کرتا تھا مگر اب ہمارے بچوں تک نے ہیروز بدل لئے ہیں کوئی شاہ رخ خان کو پسند کرتا ہے تو کوئی رانی مکھر جی کو۔اکسٹھ سالوں میں نہ ہماری کوئی پہچان بن سکی اور نہ ہی کو ئی شناخت۔ایک وقت تھا جب صرف ایک ٹی وی چینل تھااور24گھنٹوں میں صرف تین سے چار دفعہ خبریں لگتیں تھیں پھر آہستہ آہستہ خبریں زیادہ بار لگنا شروع ہوئیں اور اب ٹی وی چینلز صرف خبریں ہی سُناتے ہیں اب ٹی وی چینلز کی بھرمار نے ہر قسم کے سیاہ اور سفید کو علیحدہ علیحدہ کر دیا ہے۔اللہ اور اُس کے رسول (ص) نے برائی کی پردہ پوشی کرنے کی تلقین فرمائی مگر ہمارے میڈیا چینل ثواب سمجھ کر برائی کو بیان کرتے ہیں۔انسانوں کی اس بھیڑ میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ مسلمان کون ہے اور غیر مسلم کون ہمارے علمائ اکرام ہی خبروں کی زد میں رہتے ہیں تو قوم کی اصلاح کون کرے؟شکلیں اتنی خوبصورت جیسے فرشتے ہوں اور دلوں میں ایسے درندے بستے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی۔عوام کو بہکایہ جا رہا ہے غلط راستے پر چلایا جا رہا ہے برائی کرنے پر ہر شخص چند رپوں کے اِوض سزا سے چھٹکارہ حاصل کرلیتا ہے۔بینظیر بھٹوکے شہیدہونے کے بعد کراچی میں دنگے فساد ہوئے کئی غریب مارے گئے اُن دنوں اکثر یہ خبر سُننے کو ملتی تھی کہ لاشوں کی تلاشیاں لے کر بے حِس لوگ نقدی اور زیور وغیرہ اُتار کر لے گئے۔شریف صرف وہی رہا جنہیں موقع نہیں ملا یا کچھ ہاتھ نہیں لگا۔سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟سوائے غربت،مہنگائی،بھوک اور ذلت کے۔ایک پیٹرول ہے جو صرف عالمی منڈی میں قیمت کی کمی کی وجہ سے کم ہوا ورنہ اگر حکومت کے بس میں ہو تو یہ پیٹرول بھی جو سونے کے بھائو دیں۔مشرف نے صحیح کہا تھا۔پاکستان کا اب اللہ حافظ.!