زندگی سفر اور میں مسافر(2)

سوچا تھا پاکستانی صرف پاکستان میں قانون توڑتے ہیں،بیرون ملک جانے کے بعد پاکستانیوں جیسا ادب و قانون کا فرمابردار کوئی نہ ہوگا۔لیکن قطر کے شہر دوھا میںاپنی آنکھوں سے دیکھاکہ پاکستانی کس طریقے سے قانون توڑتے ہیں۔سیر وتفریح میرا شوق یا شاید جنون ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کہیں نہ کہیں سیر کیلئے جانے کا موقع عطا فرماتا ہے۔جس شام میں دوھا پہنچا مجھے اُس رات باوجود تھکاوٹ کے نیند نہیں آئی اورمیں قطر کے بارہ میں معلوماتی لٹریچر اور قطر کی تاریخ سے متعلقہ مواد انٹر نیٹ پر پڑھتا رہا۔دیر رات تک نہ سونے کے باوجود بعد نماز فجر ہوٹل کی کھڑکی سے نظر آنے والے قدرت کے حسین تحفہ یعنی سمند ر کی جانب چہل قدمی کرنے نکل پڑا۔سمند کی لہریں جب کنارے پر موجود پتھروں کی دیوار سے ٹکراتیں تو اُس آواز سے عجیب خوشی اور مزاج کو سکون ملتا۔کافی دیر سمندر کے پاس گزارنے کے بعد میں نے دوھا شہرکی سیرکرنے کا سوچا اور کوشش کی کہ کوئی انگلش یا اُردو بولنے والا ٹیکسی ڈرائیورملے۔پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھنے والا ٹیکسی ڈرائیور ملا اورمیں نے اُسے کہا کہ مجھے دوھا شہر کی سیرکرنی ہے۔روپے طے کرنے کے بعدوہ مجھے سمندر کے پاس دوھا کی مشہور عمارتیں،ہوٹل،بازار وغیرہ دیکھانے لے گیا۔دوران ڈرائیونگ اُس شخص نے موبائل کا مسلسل استعمال کیا۔جب ٹریفک پولیس کو دیکھتا یا محسوس کرتا کہ آگے کیمرے لگے ہوں گے موبائل نیچے کر لیتا اور پھر چند منٹ بعد دوبارہ شروع ہوجاتا۔میں نے کہا کہ بھائی یہ آپ بعد میں بھی استعمال کر سکتے ہو،دوران ڈرائیونگ اس کا استعمال کرکے قانون بھی توڑ رہے ہو اور اس میں خطرہ بھی ہے۔موصوف پنجابی میں فرمانے لگے’’پائی جی اَسی پاکستانی آں‘‘۔
خوبصورتی میں دوھا بھی کمال رکھتا ہے۔حکمرانوں نے شہر کو اپنا گھر سمجھ کر سنوار رکھا ہے اور قوم شہریت ہونے کا حقیقی فرض ادا کر رہی ہے۔صفائی کا نظام ایسا کہ دیکھ کر حیرانی ہونے لگی کہ مسلم ممالک میں سے کوئی ملک تو ایسا ہے جس میں صفائی نصف ایمان سمبھی جاتی ہے۔ویسے تو عرب ممالک میں چند ایک ایسے ہیں جہاں صفائی کا موثر نظام موجود ہے۔لیکن قطرکی خوبصورتی قابل تعریف اس لئے بھی ہے کہ چند ہی سالوں میں اس ملک نے اس قدر ترقی کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔خیر پھر اُس ٹیکسی ڈرائیور کے بعد میں نے دو بار ٹیکسی استعمال کی اور اُن دونوں ڈرائیوروں کا تعلق بھی پاکستان سے ہی تھا۔فرق یہ تھا کہ ایک مشرقی پاکستان سے تھا اور دوسرا مغربی۔وہ دونوں بھی تقریباً قانون توڑنے کے معاملہ میں اُس گجراتی ڈرائیور جیسے تھے۔پاکستانی قوم کو لاقانونیت کی ترغیب ورثہ میں ملی اس بحث کو چھوڑتے ہوئے قطر کے بارہ میں یہ بتانا ضروری سمجھوں گا کہ قطر کے رہائشیوں نے اپنی روایات اور ماضی کونہیں بُھلایا جس کی وجہ سے عرب روایات دیکھنے سیاہ بے چینی سے قطر کا رُخ کرتے ہیں۔دارالحکومت دوھا میں کئی سال پرانے بازاروں کو عین اُسی طرح دوبارہ تعمیر کیا گیاہے جیسے پہلے تھے۔بظاہر قطر میں قابل تعریف صرف قطر کا دارالحکومت یعنی دوھا ہی ہے۔مگرقطر کے حکمرانوں نے بڑی مہارت اورپلا ننگ کے ساتھ اپنے دارالحکومت کو قابل تعریف بنایا۔قطر سیاہوں کی اماج گاہ اس لئے بھی ہے کیونکہ عرب کلچر اورقدیم روایات و انداز ،یورپی ممالک میں بسنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔اس کے علاوہ قطر ائیر لائن نے اس قدر ترقی کی کہ ہروہ شخص جو قطر ائیر لائین استعمال کرتا ہے اُسکی کوشش ہوتی ہے کہ اُسے قطر کا ٹرانزٹ ویزا ملے۔میری رائے کے مطابق قدرت کی بنائی ہوئی اس زمین کی سیر اس لئے بھی کرنی چاہئے کہ انسان کو انسانوں سے سیکھنے کو بہت کُچھ ملتا ہے اور جب انسان رنگ و نسل،قوم پرستی اور زاتیات سے باہر نکلتا ہے تو اُسے قدرت کے نظارے نظر آتے ہیں جنہیں وہ ایک جگہ پر رہ کر دیکھ نہیں پاتا۔