پریشان یورپی قانون دان

انسان اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف چل سکتا ہے مگرانسان اپنی مرضی سے مثبت نتائج نہیں نکال سکتا۔اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق جب ایک انسان نکاح یا کسی بھی رنگ میں کی گئی شادی کے علاوہ کسی غیر عورت کے ساتھ جو نکاح میں نہیں،تعلق رکھے گا اُس کے نتائج ہر صورت منفی ہوں گے۔مغربی ممالک میںبے حیائی کے نام پر دی جانے والی ہر قسم کی آزادی کا خمیازہ اب مغربی ممالک کے قانون سازوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔برطانیہ سمیت پورے یورپ میں جنسی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حکومتیں شدید پریشان ہیں۔خود حکومتوں نے ہی وہاں بسنے والے انسانوں کو جنسی ملاپ کے ساتھ ساتھ کئی اور غیر قانونی آزادیاں دے رکھی ہیں جو سرے سے غیر ضروری ہیں۔اکثر یورپی سکولوں میں بچپن سے ہی بچے سیکس کی طرف راغب ہوجاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیکس کے علاوہ تماکو نوشی اور مختلف قسم کے نشے کر کے نوجوان بہادری دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ وہ اپنی زندگیوں کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔دنیا بھر کی نظروں میں ترقی کی منازل تہہ کرتا ہوا یورپ سنگین بیماریوں میں ڈوبتا جا رہا ہے۔غیر یورپی ممالک کی نسبت دیکھا جائے تو یورپ میں بھیانک واقعات کئی گناہ زیادہ رونما ہوتے ہیں مگر ان واقعات کو میڈیا تک نہیں پہنچنے دیا جاتایا اگر میڈیا تک پہنچ جائے توخبر اُنہیں پبلش نہیں کرنے دی جاتی،جس سے جرم کرنے والے گروپوں کو شہہ ملتی ہے اور وہ نئے سے نئے جرائم ایجاد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔اگرصرف برطانیہ کی بات کریں تو ایک تحقیق کے اعداد وشمار کے مطابق برطانیہ میں جنسی طور پر منتقل ہونیوالے انفیکشن پر مبنی دس سال سے زیادہ نئے کیسز رونما ہوئے ہیں۔یعنی2009ئ میں مجموعی طور پر چار لاکھ 82ہزار696مریض جنسی علاج کے ہسپتالوں میں آئے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں12ہزار زیادہ تھے۔ان میں بڑی تعداد کمسن لڑکیوں کی تھی۔ہیلتھ پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق ان نئے جنسی مریضوں میں دو تہائی ایسی خواتین تھیں جن کی عمر25سال سے کم تھی۔جبکہ سوزاک کے نئے کیسوں میں 73فیصد خواتین تھیں۔جنسی اعضائ پر مسوں کے نئے کیسز میں 66فیصد خواتین تھیں۔اسی طرح برطانیہ میں ایک جنسی بیماری چلیمیڈیا کے مریضوں میں خواتین کا تناسب88فیصد ہے۔کیا یہ مغربی ’’بے حیائ آزادی‘‘ کے منفی نتائج نہیں؟جدید ٹیکنالوجی اور ملکی ترقی کس کام کی جب حکومت کی اجازت سے ملک کی عوام انتہائی گندی بیماریوں میں گرتے جا رہے ہوں۔مغرب حقوق نسواں اور عورت کی آزادی کا اس قدر حمایتی اس وجہ سے نہیں ہے کہ اسے عورت کی مظلومیت سے ہمدردی ہے یا وہ اس کے معاشرتی مقام کی بہتری کا خواہاں ہے بلکہ ابتداہی سے تحریک آزادی نسواں کے معاشی اور سیاسی مقاصد تھے۔عورت کو غیر ضروری طور پر معاشرتی،معاشی اور ریاستی محاذوں میں جھونک دیا گیا اور اس کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو استحکام اور وسعت دی گئی۔اخلاقیات کی از سرنو تشریح کی گئی جس میں تمام جنسی امتیازات ختم کر دیے گئے۔مذہب جو اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا کو بڑے آرام سے پکڑکر معاشرتی زندگی سے باہر نکال دیا گیا اور نجی زندگی تک محدود کر دیا گیا۔یورپی قانون دانوں کی سفید سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ عورت اور معاشرہ کے بارہ میں کُچھ اس قسم کی سوچ رکھتے ہیں کہ اگر عورت آزاد اور خود مختار ہے تو معاشرہ ترقی یافتہ،مہذب اور روشن خیال ہے اور اگر عورت چار دیواری اور گھریلو زندگی تک محدود ہے تو وہ مظلوم اور معاشرہ جاہل ہے۔عورت پر اگر مذہب،اخلاقیات،لباس وغیرہ کی حدودوقیود ہیں تو ایسی تہذیب تنگ نظری اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مظہر ہے اور اگر عورت برقعہ کی پابند ہے تو یہاں کے لوگ انتہا پسند اور دہشت گرد بھی ہوسکتے ہیں۔کیسی عجیب بات ہے کہ دنیا بھر کا جدید نظام ہونے کے باوجود مغربی ممالک انسانیت،اخلاقیات،تمیز،احترام اورضمیر کے بغیر زندہ رہ رہے ہیں۔آزادی کا فائدہ نئی نسلیں اس صورت میں اٹھاتی ہیں کہ وہ والدین کے بڑھاپے میں پہنچنے کے بعد اُنہیں بزرگ خانوں کے حوالے کر دیتی ہیں اور اُن کی خیر خبر نہیں لیتیں۔یہاں تک کہ اکثر مغربی اولادیں اپنے والدین کی وفات پر افسردہ بھی نہیں ہوتیں اوراپنے ہی والدیں کو وفات کے بعدلہد تک اُتارنے کے لئے بھی ان کے پاس وقت نہیں۔حیرت ہے مغرب میں انتہائی گھٹیا اور عجیب وغریب آزادی ہے جس کے نتائج سے خود مغربی حکمران پریشان ہیں !