کراچی میں بدامنی کیوں؟

کراچی وہ شہر ہے جس نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بانی بنااور اُس بچے نے پوری دُنیا میں ایک اسلامی مملکت کا نام روشن کیا اور قابض ہندوئوں اور فرنگیوں سے مسلمانوں کو چھٹکارا دلایا۔آج سے چونسٹھ سال پہلے اس لئے الگ وطن کی جدوجہد کی گئی کیونکہ مسلمان خطرے میں تھے اور اُن کے جان ومال کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ تھا۔مگر آج چونسٹھ سال بعد بھی مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور آج بھی اُردو بولنے والوں کو ہی سب سے زیادہ کچلا جا رہا ہے۔کراچی کا نام سنتے ہی موج مستی کے ساتھ ساتھ سیر وتفریح کا خیال ذہن میں آتاتھا مگر اب یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ اگر کراچی گئے تو واپسی کی کوئی گارنٹی نہیں،کوئی گن پوائنٹ پر اغواہ نہ کر لے،کوئی راہ جاتے گولی نہ مار دے ،کوئی جگا ٹیکس نہ دینے پر کاروبار تباہ نہ کر دے وغیرہ وغیرہ یہاں تک کہ کراچی اس وقت وہ شہر بن چکا ہے جو حکمرانوں کے لئے تماشا ہے۔جو چاہے جب چاہے ہتھیاروں کے دلالوں کے ذریعے اس شہر میں موت کے رقص کا اہتمام کروا دیتا ہے۔ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے مردہ خانوں میں لاشوں کے لئے جگہ کم پڑنے لگی ہے مگر ہمارے حکمران پُرسکون ماحول میں بیرونی ممالک کے دورے کرنے میں مصروف ہیں۔کراچی اس وقت بھتہ مافیا،فرقہ واریت،سیاسی فسادات،منشیات فروشوں،لینڈ مافیا اور ٹارگٹ کلنگ کا کھیل کھیلنے والوں کے لئے میدان بن چکا ہے۔کراچی 1947ئ سے1960ئ تک پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا ہے مگر شاید حکمران جانتے تھے کہ کل کو یہ شہر سیاستدانوں کے لئے سیاسی کھیل کا میدان بن جائے گا اس لئے اس کی جگہ دارالحکومت اسلام آباد کو بنا دیا گیا۔پاکستان کا تجارتی دارالحکومت اب بھی کراچی ہی ہے۔کراچی کی قدیم تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ شہرکئی سو سال پرانا ہے مگر اس شہر کا عروج برطانوی راج میں شروع ہوا۔فروری1839ئ میں اس شہر پر انگریزوں نے قبضہ کیا اور تین سال بعد اس شہر کوپہلے ضلع کا درجہ دیا جو ترقی کرتے کرتے ایک ڈویژن بنا پھرپانچ اضلاع اور اُس کے بعد ایک شہری حکومت کی شکل میں آج دُنیا کے عظیم شہروں میںسے ایک ہے۔برطانوی دور سے پہلے اس شہر کی تاریخ کُچھ واضح نہیں لہٰذا اس بار ہ میں تصدیق سے لکھنا غلط ہوگا۔البتہ برطانوی دور کے بعد اور پاکستان بننے سے اب تک کی تاریخ واضح کہانی پیش کرتی ہے۔کسی دور میں اس کا نام’’ کلاچی جو گوٹھ‘‘ تھا پھرعرب تاجر اس شہر کو اپنے مخصوص لہجے کی وجہ سے کراشی کہا کرتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کراشی سے کراچی ہوگیا۔خیر برصغیر پاک و ہند کے بٹوارے کے بعد یہ شہر پاکستان کے حصے میںآیا۔جب سے پاکستان بنا اُس وقت پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی کا رُخ کرتے تھے اور اب کراچی میں بسنے والے وہاں سے ہجرت کرنے پر غور کرتے ہیں۔اگر پاکستان بننے کے بعد سے اس شہر کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اس کی تباہی و بربادی اور بد امنی کے صرف اور صرف حکمران ذمہ دار ہیں۔آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے قانون کے محافظ اسے سنبھال نہیں سکے اور رشوت جیسے فعل نے قانون کے محافظوں کو شہر کی حفاظت کی بجائے عوام کی جیبیں خالی کرنے میں مگن رکھا۔جس کی وجہ سے یہ شہر آہستہ آہستہ تباہ و برباد ہوتا گیا اور آج بھی اس شہر کی صورتحال یہ ہے کہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جس دن اس شہر میں قتل نہ ہو۔